Header Ads Widget

Responsive Advertisement

Ticker

6/recent/ticker-posts

رمضان المبارک اور معمولات نبوی ﷺ








‌  سحری المبارک اور معمولات نبوی


         رمضان المبارک سحری و افطاری کا بھی خاص اہتمام ہوتا ہے، سحری یا سحور (عربی: سحور) وہ کھانا ہے جسے مسلمان روزہ رکھنے کیلئے رات کے آخری پہر یعنی فجر سے پہلے کھاتے ہیں؛ کیونکہ سحری کھانے سے روزہ دار کو روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے اور دن آسانی سے گزرتا ہے۔ عموماً یہ ہلکا اور خفیف کھانا ہوتا ہے۔ اس کھانے کو سحری اس لیے کہا جاتا ہے کہ رات کے آخری حصے کو عربی زبان میں "سحر" کہا جاتا ہے اور یہ کھانا اسی وقت کھایا جاتا ہے، اس لیے عربی میں اس کا نام "سحور" ہے، اردو زبان میں "سحری" کہا جاتا ہے. جبکہ افطار یا روزہ افطار ایک اسلامی اصطلاح ہے جو اصلاً عربی زبان سے ماخوذ ہے۔ اس کے معنی ختم کرنے یا توڑنے کے آتے ہیں. روزہ داروں کا غروب آفتاب کے بعد یعنی مغرب کی اذان کے وقت روزہ ختم کرنا اور کھانا پینا افطار کہلاتا ہے اور افطار میں جو کھانا تناول کیا جاتا ہے اسے "افطاری" کہتے ہیں۔ جو لوگ یہ طعنہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالی مسلمانوں کو بھوکا رکھتے ہیں، پیاس کی شدت اور تپش برداشت کرنے پر مجبور کرتے ہیں وہ دراصل یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی نے انسانوں پر رمضان المبارک کا مہینہ اگرچہ فرض کیا ہے جس میں کھانے، پینے اور جماع سے پرہیز لازم قرار دیا گیا ہے؛ لیکن اس مہینہ میں کھانے پینے کے طور و طریق اتنے نایاب رکھے گئے ہیں کہ بسااوقات انسان یہ بھول جائے کہ یہ بھوکے رہنے کا مہینہ ہے یا کھانے پینے کا، عام دنوں میں آپ کب کھاتے ہیں، اور کھاتے بھی ہیں یا نہیں اس پر کوئی حکم نہیں لگایا جاتا، جب تک کہ آپ کی صحت و تندرستی پر آنچ نہ آئے، مگر روزے کے ایام میں اللہ تعالی خود کھانے پینے کے اوقات متعین کرتا ہے اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کھانوں کو برکت کا کھانا فرماتے ہیں، تو وہیں رمضان المبارک میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے روزے کا آغاز سحری کھانے اور اختتام جلد افطاری سے کیا کرتے تھے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سحری کھانے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَةً. (مسلم، الصحيح، کتاب الصیام، باب فضل السحور و تأکید استحبابه. . . ، 2 : 770، رقم: 1095) ’’سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے۔‘‘ایک اور مقام پر حضرت ابو قیس رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہما سے روایت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا فرق ہے۔‘‘ (مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب فصل السحور و تأکيد استحبابه، 2 : 771، رقم : 1096) آہ--- ایسا کونسا مذہب ہوگا جو کھانے پینے کو برکت قرار دے، وقت باندھ دے، اور کہے کہ اگر نہیں کھاؤگے تو برکت سے محروم  رہو گے؟

    ایک تبصرہ شائع کریں

    0 تبصرے